أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ، ⦗٦٥٩⦘ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَرَكُمْ بِصَلَاةٍ، هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ لَكُمْ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ، الْوِتْرَ الْوِتْرَ " مَرَّتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تمہیں ایک نماز کا حکم دیا ہے، یہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے اور یہ نماز عشا اور طلوعِ فجر کے درمیان ہے یعنی وتر، وتر۔“ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا۔
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُرَّةَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعْدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث ہی کی ایک اور سند ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ خُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ " قُلْنَا: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْوِتْرُ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " لَفْظُ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلِ: الزَّوْفِيُّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مُرَّةَ وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ قَالَ: لَا يُعْرَفُ لِإِسْنَادِهِ - يَعْنِي لِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ - سَمَاعُ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رُوِيَ مِثْلُ هَذَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے وقت ہمارے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ایک نماز کا حکم دیا ہے۔ یہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“ ہم نے عرض کیا: وہ کون سی نماز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وتر، جو عشاء اور طلوعِ فجر کے درمیان ہے۔“
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سند کے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع معروف نہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح کی روایت فجر کی دو رکعتوں کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سند کے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع معروف نہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح کی روایت فجر کی دو رکعتوں کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَنَاحٍ الْكَشَانِيُّ بِبُخَارَى مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ بِدِمَشْقَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً إِلَى صَلَاتِكُمْ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ أَلَا وَهِيَ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ " قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَامٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ مُحَدِّثُ أَهْلِ الشَّامِ وَهُوَ صَدُوقُ الْحَدِيثِ، وَمَنْ لَمْ يَكْتُبْ حَدِيثَهُ مُسْنَدَهُ وَمُنْقَطِعَهُ فَلَيْسَ بِصَاحِبِ حَدِيثٍ وَبَلَغَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ قَالَ: لَوْ أَمْكَنَنِي أَنْ أَرْحَلَ إِلَى ابْنِ بُجَيْرٍ لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗٦٦٠⦘ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ خُزَيْمَةَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ فِي حِكَايَتِهِ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ بُجَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تمہاری نمازوں میں ایک نماز کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔ آگاہ رہو! یہ فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔“
عباس بن ولید کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا: یہ حدیث معاویہ بن سلام کی روایت سے غریب ہے، اور معاویہ بن سلام اہل شام کے محدث ہیں اور حدیث میں صدوق (سچے) ہیں، اور جو ان کی متصل اور منقطع احادیث نہ لکھے وہ صاحبِ حدیث نہیں۔
عباس بن ولید کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا: یہ حدیث معاویہ بن سلام کی روایت سے غریب ہے، اور معاویہ بن سلام اہل شام کے محدث ہیں اور حدیث میں صدوق (سچے) ہیں، اور جو ان کی متصل اور منقطع احادیث نہ لکھے وہ صاحبِ حدیث نہیں۔
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ بْنِ الصَّيْدَلَانِيِّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَتَكِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا " أَنْبَأَ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو الْمُنِيبِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ سَمِعَ مِنْهُ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عِنْدَهُ مَنَاكِيرُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهُوَ عِنْدِي لَا بَأْسَ بِهِ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَيْضًا يُوَثِّقُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر واجب ہے، جو وتر نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیداللہ بن عبداللہ ابوالمنیب ابن بریدہ سے روایت کرتے ہیں، زید بن حباب نے ان سے سنا ہے، ان کے پاس منکر روایات ہیں۔ ابواحمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میرے نزدیک ان میں کوئی حرج نہیں، اور یحییٰ بن معین بھی انہیں ثقہ قرار دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیداللہ بن عبداللہ ابوالمنیب ابن بریدہ سے روایت کرتے ہیں، زید بن حباب نے ان سے سنا ہے، ان کے پاس منکر روایات ہیں۔ ابواحمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میرے نزدیک ان میں کوئی حرج نہیں، اور یحییٰ بن معین بھی انہیں ثقہ قرار دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " الْوِتْرُ تَطَوُّعٌ وَهُوَ مِنْ أَشْرَفِ التَّطَوُّعِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی سفر رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر نفل ہے اور وہ نفل نمازوں میں سب سے زیادہ عمدہ ہے۔