کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنْ لَا فَرْضَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَكْثَرُ مِنْ خَمْسٍ، وَأَنَّ الْوِتْرَ تَطَوُّعٌ.
حافظ ثناء اللہ
یہ باب اس بات کے بیان میں ہے کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ نمازیں فرض نہیں ہیں، اور یہ کہ وتر نفل (تطوع) نماز ہے۔
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ: " صِيَامُ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَاللهِ إِنْ صَدَقَ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَدَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بکھرے ہوئے بالوں والا ایک دیہاتی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں مگر یہ کہ تو کچھ نفل پڑھے۔“ پھر کہنے لگا: اللہ نے میرے اوپر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے مگر یہ کہ آپ کچھ نفلی روزے رکھیں۔“ پھر وہ کہنے لگا: مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کے طریقوں کی خبر دی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے، نہ تو میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم! وہ جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔“
(ب) اسماعیل بن جعفر رحمہ اللہ نے یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔
(ب) اسماعیل بن جعفر رحمہ اللہ نے یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔
أَنْبَأَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ ⦗٦٥٦⦘ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ " وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ " فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ،، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص بکھرے ہوئے بالوں والا نبی ﷺ کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے قریب ہوا اور وہ اسلام کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔“ اور (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”رمضان کے روزے فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔“ نبی ﷺ نے اس کے لیے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔“ اس شخص نے پیٹھ پھیری اور وہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ ہی کمی کروں گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گیا۔“
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ يَغْشَ الْكَبَائِرَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہیں ہوتا (یعنی کبیرہ گناہ اس کو ڈھانپ نہیں لیتے)۔“
وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا، بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان، ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ایک شخص سے سنا جس کو ابومحمد کہا جاتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وتر واجب ہے۔ مخدجی کہتے ہیں: میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا، وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے تو میں نے ان کو وہ بات بتائی جو ابومحمد نے کہی تھی۔ عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ابومحمد نے غلطی کی، میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس نے یہ پانچ نمازیں پڑھیں اور ان کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہ کیا تو اللہ کا اس بندے سے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کی طرف نہ آیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔“
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ لَقِيَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: إِنَّهُ وَاجِبٌ قَالَ الْكِنَانِيُّ: فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فَرَضَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ عَهْدٌ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان، ابن محیریز رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جو بنو مدلج میں سے تھا، انصار کے ایک شخص سے ملا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابومحمد نے کہا: واجب ہے۔ کنانی کہتا ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ابومحمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کو پڑھتا ہے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرتا تو اللہ کا اس بندے کے لیے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو بندہ ان پانچ نمازوں کو نہیں پڑھتا تو اللہ کا اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں۔ اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس پر رحم کرے۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُمْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْبُخَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: " أَمْرٌ حَسَنٌ جَمِيلٌ، عَمِلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عمرو بخاری نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے: بڑا اچھا کام ہے، نبی ﷺ اور ان کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا، لیکن یہ واجب نہیں ہے۔
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ حَسَنَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ " الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں ہے، لیکن نبی ﷺ کی اچھی سنت ہے، کیونکہ ”اللہ رب العزت وتر ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
(ب) یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں، اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
(ب) یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں، اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں جیسے فرض نماز ہے بلکہ سنت ہے۔ نبی ﷺ نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، أنبأ عُثْمَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (ح) وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ وَهُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: " لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو۔“
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ دیہاتی نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ آپ کے لیے اور نہ آپ کے ساتھیوں کے لیے۔“
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ دیہاتی نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ آپ کے لیے اور نہ آپ کے ساتھیوں کے لیے۔“
وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مِهْرَانُ يَعْنِي الرَّازِيَّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ⦗٦٥٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " قَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " لَسْتَ مِنْ أَهْلِهِ " وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھو۔“ ایک دیہاتی نے کہا: نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو ان میں سے نہیں ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرُوا يَا أَصْحَابَ الْقُرْآنِ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَيُقَالُ: لَمْ يَسْمَعْهُ الثَّوْرِيُّ مِنْ عَمْرٍو إِنَّمَا سَمِعَهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، فَذَكَرَ فِيهِ عَبْدَ اللهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَالْحَدِيثُ مَعَ ذِكْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! تم وتر پڑھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ ایک دیہاتی نے کہا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟ تو ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے۔
اسی طرح ایک جماعت نے اسے ثوری سے روایت کیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ثوری نے اسے عمرو سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے عمرو سے سنا ہے۔ اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے تو اس میں عبداللہ کا ذکر کیا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا۔
اسی طرح ایک جماعت نے اسے ثوری سے روایت کیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ثوری نے اسے عمرو سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے عمرو سے سنا ہے۔ اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے تو اس میں عبداللہ کا ذکر کیا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا۔
أنبأ الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى الضُّحَى وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا مَا نَعْرِفُ غَيْرَ الْوِتْرِ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا؛ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے وتر پڑھے اور تجھ پر یہ فرض نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی اور تجھ پر یہ فرض نہیں۔ نبی ﷺ نے قربانی کی اور تجھ پر فرض نہیں۔ آپ ﷺ نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور تجھ پر فرض نہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یہ وہ چیزیں ہیں جن کو وتر کے علاوہ پہچانا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھو، اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ، وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى " أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ ضَعِيفٌ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يُصَدِّقُهُ وَيَرْمِيهِ بِالتَّدْلِيسِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تین چیزیں میرے لیے فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل: قربانی، وتر اور چاشت کی دو رکعتیں“۔
ابوجناب کلبی، جن کا نام یحییٰ بن ابی حیہ ہے، ضعیف ہیں، اور یزید بن ہارون انہیں سچا قرار دیتے تھے اور ان پر تدلیس کا الزام لگاتے تھے۔
ابوجناب کلبی، جن کا نام یحییٰ بن ابی حیہ ہے، ضعیف ہیں، اور یزید بن ہارون انہیں سچا قرار دیتے تھے اور ان پر تدلیس کا الزام لگاتے تھے۔