أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَوَاجِبَةٌ رَكْعَتَا الْفَجْرِ أَوْ شَيْءٌ مِنَ التَّطَوُّعِ؟ فَقَالَ: أَوَمَا عَلِمْتَ؟، ثُمَّ حَدَّثَنِي عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ عَلَى شَيْءٍ أَدْوَمَ مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيِ الصُّبْحِ، أَوِ الْفَجْرِ مِنَ النَّوَافِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج فرماتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: کیا فجر کی دو رکعتیں واجب ہیں یا نفل؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نہیں جانتے! پھر انہوں نے مجھے عبید بن عمیر سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح یا فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ ہمیشگی نفلوں میں سے کسی پر نہیں کی۔
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " ⦗٦٦١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نوافل میں سے سب سے زیادہ خیال صبح کی دو سنتوں کا رکھتے تھے۔
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْحِنَّائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَوَفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " وَفِي رِوَايَةِ مُسَدَّدٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ: ”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہیں۔“
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوَفَى، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: " لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعتیں مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“
قَالَ: رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، وقال، فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: " لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: قَالَ أَبِي، ثنا قَتَادَةُ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمُعْتَمِرِ.
حافظ ثناء اللہ
معتمر بن سلیمان نے یہ روایت اپنے والد سے نقل کی ہے، اور اس میں فجر کی دو رکعتوں کے بارے میں فرمایا: ”یہ دونوں رکعتیں مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے زیادہ محبوب ہیں۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا، وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا، وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا أَبَدًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر آٹھ رکعتیں کھڑے ہو کر اور دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کیں اور دو رکعتیں اذان اور اقامت کے درمیان پڑھیں اور ان کو آپ ﷺ نے کبھی نہیں چھوڑا۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، فَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ: فَأَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا قَالَ: " لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا " وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ " وَهُوَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ بِكِتَابِ أَبِي دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس صبح کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کسی کام میں مصروف کر دیا، وہ ان سے سوال کر رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح اچھی طرح روشن ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اٹھے اور آپ ﷺ کو نماز کی اطلاع دی اور بار بار اطلاع دیتے رہے لیکن آپ ﷺ نہیں نکلے، جب آپ ﷺ نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کسی معاملہ میں مصروف کر دیا، جس کی وجہ سے بہت زیادہ صبح ہوئی۔ آپ ﷺ نے بھی آنے میں دیر کر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے فجر کی رکعتیں پڑھیں۔“ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے بہت زیادہ صبح کر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کر دیتا تو ان دو رکعتوں کو خوب اچھی طرح ادا کرتا۔“