کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ اگر دھونے کے بعد بھی کپڑے پر خون کا نشان باقی رہ جائے تو وہ نقصان دہ نہیں
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، ⦗٥٧٢⦘ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الدَّمِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، وَقَالَ بِشْرٌ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ: " أَرَأَيْتِ الثَّوْبَ يُصِيبُهُ الدَّمُ فَأَغْسِلُهُ فَلَا يَذْهَبُ أَثَرُهُ " فَقَالَتْ: " الْمَاءُ طَهُورٌ ".
حافظ ثناء اللہ
معاذہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑوں پر لگے ہوئے خون کے بارے میں سوال کیا، اور بشر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر کپڑوں سے خون صاف کر کے بھی نشانات ختم نہ ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پانی پاکیزگی کا باعث ہے یا فرمایا: پانی پاک ہے۔
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ " دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ فَيُغْسَلُ فَيَبْقَى أَثَرُهُ، فَقَالَتْ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ " وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ حیض کا خون کپڑوں کو لگ جاتا ہے اور دھونے سے بھی نشانات ختم نہیں ہوتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ مِنَ الثَّوْبِ قَالَ: " يَكْفِيكِ الْمَاءُ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ ﷺ کا کیا خیال ہے اگر کپڑوں سے خون نہ نکلے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے پانی کافی ہے، اس کا اثر تجھے نقصان نہ دے گا۔“
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: " إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي ثَوْبَكِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ مِنَ الثَّوْبِ؟ قَالَ: " يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاؤں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو پاک ہو جائے تو اپنا کپڑا دھو لیا کر، پھر اس میں نماز پڑھ۔“ عرض کیا: اگر کپڑے سے خون کا اثر زائل نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے پانی کافی ہے، خون کے اثرات نقصان نہیں دیں گے۔“
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ نِمَارٍ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحِيضُ وَلَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَيُصِيبُهُ الدَّمُ قَالَ: " اغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ " قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، يَبْقَى أَثَرُهُ قَالَ: " لَا يَضُرُّ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ غَيْرُهُ أَوْثَقُ مِنْهُ وَلَمْ يَسْمَعْ خَوْلَةَ بِنْتَ نِمَارٍ أَوْ يَسَارٍ إِلَّا فِي هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت خولہ بنت نمار رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاتی ہوں اور اس کو خون لگ جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دھو اور اس میں نماز پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میں خون کے نشانات باقی رہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“