السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن الدم إذا بقي أثره في الثوب بعد الغسل لم يضر باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ اگر دھونے کے بعد بھی کپڑے پر خون کا نشان باقی رہ جائے تو وہ نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 4117
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: " إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي ثَوْبَكِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ مِنَ الثَّوْبِ؟ قَالَ: " يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاؤں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو پاک ہو جائے تو اپنا کپڑا دھو لیا کر، پھر اس میں نماز پڑھ۔“ عرض کیا: اگر کپڑے سے خون کا اثر زائل نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے پانی کافی ہے، خون کے اثرات نقصان نہیں دیں گے۔“