السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن الدم إذا بقي أثره في الثوب بعد الغسل لم يضر باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ اگر دھونے کے بعد بھی کپڑے پر خون کا نشان باقی رہ جائے تو وہ نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 4114
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، ⦗٥٧٢⦘ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الدَّمِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، وَقَالَ بِشْرٌ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ: " أَرَأَيْتِ الثَّوْبَ يُصِيبُهُ الدَّمُ فَأَغْسِلُهُ فَلَا يَذْهَبُ أَثَرُهُ " فَقَالَتْ: " الْمَاءُ طَهُورٌ ".حافظ ثناء اللہ
معاذہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑوں پر لگے ہوئے خون کے بارے میں سوال کیا، اور بشر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر کپڑوں سے خون صاف کر کے بھی نشانات ختم نہ ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پانی پاکیزگی کا باعث ہے یا فرمایا: پانی پاک ہے۔