السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن الدم إذا بقي أثره في الثوب بعد الغسل لم يضر باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ اگر دھونے کے بعد بھی کپڑے پر خون کا نشان باقی رہ جائے تو وہ نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 4118
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ نِمَارٍ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحِيضُ وَلَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَيُصِيبُهُ الدَّمُ قَالَ: " اغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ " قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، يَبْقَى أَثَرُهُ قَالَ: " لَا يَضُرُّ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ غَيْرُهُ أَوْثَقُ مِنْهُ وَلَمْ يَسْمَعْ خَوْلَةَ بِنْتَ نِمَارٍ أَوْ يَسَارٍ إِلَّا فِي هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت خولہ بنت نمار رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، میں حائضہ ہو جاتی ہوں اور اس کو خون لگ جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دھو اور اس میں نماز پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میں خون کے نشانات باقی رہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“