کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قرآن مجید کی قراءت کی پابندی کرنے (اسے دہراتے رہنے) کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ: وَأنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صاحبِ قرآن کی مثال گھٹنا بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے۔ اگر وہ (صاحبِ قرآن) اسے مضبوطی سے پکڑے رکھے تو روک سکے گا اور اس کو کھول دے تو یہ جلد چلا جائے گا۔“
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ فَلَهِيَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا، وَلَا يَقُولَنَّ: أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ هُوَ نُسِّيَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان مصاحف کو پختگی سے یاد رکھو؛ اللہ کی قسم! قرآن جلدی لوگوں کے سینوں سے نکل جاتا ہے جیسے جانور اپنی رسیوں سے نکل جاتے ہیں۔ (لہٰذا اس کی تلاوت کرتے رہا کرو) تم میں سے کوئی بھی ہرگز یہ بات نہ کہے کہ «نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ» ”میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں“ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھلا دی جاتی ہے۔“
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا اس طرح کہنا بری بات ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ (یہ کہے کہ) وہ بھلا دیا گیا۔ قرآن کو یاد کیا کرو، یقیناً وہ لوگوں کے سینوں سے جلدی نکلنے والا ہے بہ نسبت جانور کے ان کی رسیوں سے۔“
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ لَهُ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مہارت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو وہ معزز فرشتوں جیسا ہے اور اس شخص کی مثال جو قرآن کو پڑھتا ہے اور اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس پر گراں گزرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کی (تلاوت میں) مہارت رکھنے والا معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن پڑھ رہا ہو اور اس میں اٹک رہا ہو اور وہ اس پر گراں گزر رہا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخَذْهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " قَالَ مُعَاوِيَةُ: الْبَطَلَةُ السَّحَرَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پڑھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو پڑھو، یہ دونوں «الزَّهْرَاوَيْنِ» ”دو روشن سورتیں“ ہیں اور یہ دونوں قیامت کے دن آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل یا دو سائبان ہیں یا اڑتے پرندوں کی دو ڈاریں ہیں جو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں، یہ اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ کو پڑھا کرو، اس کا یاد کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست (جادوگر) اس کی ہمت نہیں رکھتے۔“
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «الْبَطَلَةُ» سے مراد «السَّحَرَةُ» یعنی جادوگر ہیں۔
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «الْبَطَلَةُ» سے مراد «السَّحَرَةُ» یعنی جادوگر ہیں۔