السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المعاهدة على قراءة القرآن باب: قرآن مجید کی قراءت کی پابندی کرنے (اسے دہراتے رہنے) کا بیان
حدیث نمبر: 4054
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ لَهُ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مہارت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو وہ معزز فرشتوں جیسا ہے اور اس شخص کی مثال جو قرآن کو پڑھتا ہے اور اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس پر گراں گزرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“