حدیث نمبر: 4044
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " هُمَا مَكْتُوبَتَانِ فِي الْمُصْحَفِ الَّذِي جُمِعَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ كَانَ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ جَمَعَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ النَّاسَ وَهُمَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهِمَا فِي صَلَاتِي.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ دونوں (سورتیں) اس مصحف میں لکھی ہوئی ہیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع کیا گیا تھا، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو اسی پر جمع کر دیا اور وہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں اپنی نماز میں انہیں پڑھنا پسند کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 4044
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: قِيلَ لِي فَقُلْتُ: فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ مجھے کہا گیا تھا تو میں نے کہہ دیا۔“
”ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔“
”ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔“
حدیث نمبر: 4045
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَقِيلَ لِي " فَقُلْتُ: فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے بارے میں دریافت کیا اور کہا: اے ابومنذر! بے شک آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما ان کو قرآن میں شمار نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کلمات مجھے کہے گئے تھے تو میں نے کہے۔“ لہٰذا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کہے ہیں۔
حدیث نمبر: 4046
أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَأنبأ أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ " يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ " ⦗٥٥٢⦘ لَفْظُ حَدِيثِ يَعْلَى، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ آيَاتٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهُنَّ، الْمُعَوِّذَتَيْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر چند ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان جیسی کسی نے نہیں دیکھیں“، وہ معوذتین مراد لے رہے تھے۔
(ب) محمد بن عبید رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”مجھ پر (آج) رات چند ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے نہیں دیکھیں، وہ معوذتین ہیں۔“
(ب) محمد بن عبید رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”مجھ پر (آج) رات چند ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے نہیں دیکھیں، وہ معوذتین ہیں۔“
حدیث نمبر: 4047
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي أَعْجَبُ بِهِمَا فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ فَقَرَأَ بِهِمَا، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟ " كَذَا قَالَ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دورانِ سفر میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو پڑھی جاتی ہیں؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے مجھے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ پھر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو یہ دو سورتیں (معوذتین) تلاوت فرمائیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: ”اے عقبہ! تمہارا (ان سورتوں کے بارے میں) کیا خیال ہے؟“
حدیث نمبر: 4048
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا " فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسَ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ سفر رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا، پس آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو تلاوت کی جاتی ہیں؟“ پھر آپ ﷺ نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی، تو صبح جب آپ ﷺ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کے لیے اترے تو نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے عقبہ! تمہارا ان سورتوں کے بارے کیا خیال ہے؟“
حدیث نمبر: 4049
كَمَا أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معوذتین کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے امامت کے دوران فجر کی نماز میں ان کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 4050
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذَا غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِـ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَأَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَيَقُولُ: " يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا " قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جحفہ اور ابواء کے درمیان سفر کر رہا تھا کہ اچانک سیاہ کالی آندھی نے ہمیں گھیر لیا تو رسول اللہ ﷺ ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] کے ساتھ پناہ طلب کرنے لگے۔ ترجمہ: ”میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“، ”میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“ اور فرمانے لگے: ”اے عقبہ! ان دونوں (معوذتین) کے ساتھ پناہ طلب کر، کسی پناہ حاصل کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ حاصل نہیں کی“۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ ہماری امامت کے دوران ان دونوں کی تلاوت کرتے تھے۔