السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المعاهدة على قراءة القرآن باب: قرآن مجید کی قراءت کی پابندی کرنے (اسے دہراتے رہنے) کا بیان
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخَذْهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " قَالَ مُعَاوِيَةُ: الْبَطَلَةُ السَّحَرَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پڑھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو پڑھو، یہ دونوں «الزَّهْرَاوَيْنِ» ”دو روشن سورتیں“ ہیں اور یہ دونوں قیامت کے دن آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل یا دو سائبان ہیں یا اڑتے پرندوں کی دو ڈاریں ہیں جو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں، یہ اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ کو پڑھا کرو، اس کا یاد کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست (جادوگر) اس کی ہمت نہیں رکھتے۔“
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «الْبَطَلَةُ» سے مراد «السَّحَرَةُ» یعنی جادوگر ہیں۔