کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ: " لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے بدترین چوری کرنے والا وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں چوری کیسے ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرنا۔“
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:: لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا " وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوری کرنے کے لحاظ سے لوگوں میں سے بدترین آدمی وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز میں آدمی کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرے۔“
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ: " مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ " ⦗٥٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود کو پورا پورا ادا نہیں کر رہا تھا تو اس کو کہا: کتنے عرصے سے تو (اس طرح کی) نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تو اسی حالت میں مر گیا تو تیری موت فطرت (اسلام) پر نہ ہو گی۔
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ وَصَفْوَانُ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَيْمَنُ أَخًا لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَ أَكْبَرَ مِنْ أُسَامَةَ قَالَ حَرْمَلَةُ: فَصَلَّى الْحَجَّاجُ صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: أَيِ ابْنَ أَخِي أَتَحْسِبُ أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ إِنَّكَ لَمْ تُصِلِّ فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلا کر کہا: ”اے بھتیجے! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ تیری نماز نہیں ہوئی، اپنی نماز لوٹا۔“ جب حجاج چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: ”یہ کون تھا؟“ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے: ”اگر رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے“، پھر انہوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے اسے جنا تھا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی پرورش و نگہداشت کرنے والی تھیں۔