کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4000
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ ”جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا، اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4000
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: مِنْ زِيَادٍ أَوِ ابْنِ زِيَادٍ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى أَلَّا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ يُونُسُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَتِ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُأْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن حکیم ضبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ آیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا نسب بیان کرو۔ میں نے نسب بیان کر دیا تو انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا میں تجھ سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ (یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا) آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے روز لوگوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ہمارا پروردگار عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے: میرے اس بندے کی نماز کا جائزہ لو، کیا اس نے اسے درست اور مکمل پڑھا تھا یا اس میں کوئی کمی کی تھی؟ اگر وہ مکمل ہو گی تو مکمل ہی لکھی جائے گی۔ اگر اس میں کچھ کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کے پاس نفل بھی ہیں؟ اگر اس کے پاس نفل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے پورا کر دو۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق لیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4001
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتَلَفَ فِيهِ الْحَسَنُ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ وَمَا ذَكَرْنَا أَصَحَّهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَرُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
(ب) اس حدیث میں حسن پر کئی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور جو سند ہم نے ذکر کی ہے وہ ان شاء اللہ ان سب سے صحیح ہے۔
(ب) اس حدیث میں حسن پر کئی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور جو سند ہم نے ذکر کی ہے وہ ان شاء اللہ ان سب سے صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 4002
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ ⦗٥٤١⦘ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ لَمْ يُكْمِلْهَا قَالَ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا تُكْمِلُوا بِهِ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " رَفَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بندے سے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر اس کی نماز پوری نکلی تو پوری ہی لکھی جائے گی اور اگر اس کی نماز مکمل نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں؟ اگر ہیں تو فرضوں کی کمی ان نفلوں کے ساتھ پوری کر دو۔ پھر زکوٰۃ کا حساب اسی طرح ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4003
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَمَنْ أَتَمَّهَا حُوسِبَ بِمَا سِوَاهَا وَإِنْ كَانَ قَدِ انْتَقَصَهَا قِيلَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ تَطَوُّعٌ لَمْ يَكْمُلِ الْفَرِيضَةَ، وَأُخِذَ بِطَرَفَيْهِ فَقُذِفَ فِي النَّارِ " وَوَقَفَهُ كَذَلِكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَرَوَاهُ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَأَتَمَّ مِنْهُ وَرَوَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى مَا يُشْبِهُ خِلَافَ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قیامت کے دن آدمی سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ فرض نماز ہے۔ اگر اس کی نماز مکمل نکل آئی تو باقی حساب بھی لیا جائے گا اور اگر اس کی نماز میں کوئی کمی ہوئی تو کہا جائے گا: دیکھو کیا اس آدمی کے پاس نوافل ہیں؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو ان نوافل سے اس کے فرائض کو مکمل کیا جائے گا اور اگر نوافل نہ ہوئے تو فرائض مکمل نہ ہوں گے اور اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“
(ب) اس روایت کو یزید رقاشی نے نبی ﷺ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے اور یہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی نماز اور زکوٰۃ والی روایت کے ہم معنیٰ ہے۔
(ب) اس روایت کو یزید رقاشی نے نبی ﷺ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے اور یہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی نماز اور زکوٰۃ والی روایت کے ہم معنیٰ ہے۔
حدیث نمبر: 4004
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْرَابِيُّ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا عَلِيُّ مَثَلُ الَّذِي لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ كَمَثَلِ حُبْلَى حَمَلَتْ، فَلَمَّا دَنَا نِفَاسُهَا أَسْقَطَتْ فَلَا هِيَ ذَاتُ وَلَدٍ وَلَا هِيَ ذَاتُ حَمْلٍ وَمَثَلُ الْمُصَلِّي كَمَثَلِ التَّاجِرِ لَا يَخْلُصُ لَهُ رِبْحُهُ حَتَّى يَخْلُصَ لَهُ رَأْسُ مَالِهِ كَذَلِكَ الْمُصَلِّي لَا تُقْبَلُ نَافِلَتُهُ حَتَّى يُؤَدِّي الْفَرِيضَةَ " مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ هَكَذَا وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ كَذَلِكَ مَرْفُوعًا وَهُوَ إِنْ صَحَّ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! اس شخص کی مثال جو نماز مکمل نہیں کرتا اس اونٹنی کی طرح ہے جو حاملہ ہو اور جب اس کا بچہ جننے کا وقت قریب ہو تو وہ حمل ضائع کر دے، نہ تو وہ بچے والی ہوگی اور نہ ہی حمل والی؛ اور نمازی کی مثال اس تاجر کی سی ہے جو اپنے منافع کو خالص نہیں کرتا تاکہ اس کے مال کا سرمایہ اپنے لیے خالص کرے، اسی طرح نمازی کے نفل قبول نہیں ہوتے جب تک کہ وہ فرائض کو ادا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 4005
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ كَمَثَلِ الْحُبْلَى حَمَلَتْ حَتَّى إِذَا دَنَا نِفَاسُهَا أَسْقَطَتْ فَلَا هِيَ ذَاتُ حَمْلٍ وَلَا هِيَ ذَاتُ وَلَدٍ، وَمَثَلُ الْمُصَلِّي كَمَثَلِ التَّاجِرِ لَا يَخْلُصُ لَهُ رِبْحٌ حَتَّى يَخْلُصَ لَهُ رَأْسُ مَالِهِ كَذَلِكَ الْمُصَلِّي لَا تُقْبَلُ لَهُ نَافِلَةٌ حَتَّى يُؤَدِّيَ الْفَرِيضَةَ فَتَكُونُ صِحَّتُهَا بِصِحَّةِ الْفَرِيضَةِ " وَالْأَخْبَارُ الْمُتَقَدِّمَةُ مَحْمُولَةٌ عَلَى نَافِلَةٍ تَكُونُ خَارِجَ الْفَرِيضَةِ فَلَا يَكُونُ صِحَّتُهَا بِصِحَّةِ الْفَرِيضَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنی نماز مکمل نہیں کرتا اس مادہ کی طرح ہے جو حاملہ ہو اور جب بچہ جننے کا وقت قریب آئے تو وہ اپنا حمل ساقط کر دے کہ نہ تو حمل رہا اور نہ ہی بچہ، اور نمازی کی مثال بھی تاجر کی سی ہے کہ نہ تو خالص کرتا ہے اور نہ ہی انصاف کرتا ہے تاکہ اپنے نفع کو خالص نہ کرلے، اسی طرح نمازی کے نوافل قبول نہ ہوں گے جب تک کہ وہ فرائض ادا نہ کرے۔“
(ب) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو ان نوافل پر محمول کیا جائے گا جو فرض نماز میں ہوتے ہیں اور ان نوافل کی صحت فرائض کی صحت کے ساتھ ہوگی اور سابقہ احادیث ان نوافل پر محمول ہوں گی جو فرائض کے علاوہ ہیں، ان کی صحت فرائض کی صحت پر موقوف نہ ہوگی، واللہ اعلم۔
(ب) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو ان نوافل پر محمول کیا جائے گا جو فرض نماز میں ہوتے ہیں اور ان نوافل کی صحت فرائض کی صحت کے ساتھ ہوگی اور سابقہ احادیث ان نوافل پر محمول ہوں گی جو فرائض کے علاوہ ہیں، ان کی صحت فرائض کی صحت پر موقوف نہ ہوگی، واللہ اعلم۔