السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي فيمن يسرق من صلاته فلا يتمها باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ وَصَفْوَانُ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَيْمَنُ أَخًا لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَ أَكْبَرَ مِنْ أُسَامَةَ قَالَ حَرْمَلَةُ: فَصَلَّى الْحَجَّاجُ صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: أَيِ ابْنَ أَخِي أَتَحْسِبُ أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ إِنَّكَ لَمْ تُصِلِّ فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلا کر کہا: ”اے بھتیجے! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ تیری نماز نہیں ہوئی، اپنی نماز لوٹا۔“ جب حجاج چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: ”یہ کون تھا؟“ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے: ”اگر رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے“، پھر انہوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے اسے جنا تھا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی پرورش و نگہداشت کرنے والی تھیں۔