السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي فيمن يسرق من صلاته فلا يتمها باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
حدیث نمبر: 3998
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ: " مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ " ⦗٥٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود کو پورا پورا ادا نہیں کر رہا تھا تو اس کو کہا: کتنے عرصے سے تو (اس طرح کی) نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تو اسی حالت میں مر گیا تو تیری موت فطرت (اسلام) پر نہ ہو گی۔