کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نمازی کی نگاہ اس کے سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ ⦗٤٠٢⦘ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ تَدُورُ عَيْنَاهُ يَنْظُرُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] فَطَأْطَأَ ابْنُ عَوْنٍ رَأْسَهُ وَنَكَّسَ فِي الْأَرْضِ وَرُوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، وَالصَّحِيحُ هُوَ الْمُرْسَلُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عون رحمہ اللہ، محمد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر ادھر ادھر دیکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 1-2] ”تحقیق وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔“ ابن عون رحمہ اللہ نے اپنے سر کو زمین کی طرف جھکایا۔
یہ روایت ابو زید سعید بن اوس سے، انہوں نے ابن عون سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔
یہ روایت ابو زید سعید بن اوس سے، انہوں نے ابن عون سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ الرَّفَّاءِ الْهَرَوِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدٌ أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ١] فَنَكَّسَ رَأْسَهُ " وَوَصَفَ لَنَا أَبُو زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے انہوں نے یہ حدیث ذکر کی مگر اس میں ہے کہ آپ ﷺ نماز میں ادھر ادھر دیکھ لیا کرتے تھے، جب یہ آیت کریمہ ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ﴾ [سورة المؤمنون: 1-2] نازل ہوئی تو آپ نے اپنا سر جھکا لیا۔ راوی کہتے ہیں: ابو زید رحمہ اللہ نے ہمیں سر جھکا کر دکھایا۔
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْمَنْصُورِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَنَزَلَتْ آيَةٌ إِنْ لَمْ تَكُنِ {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] " فَلَا أَدْرِي أَيَّ آيَةٍ هِيَ " فَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يُحِبُّ أَنْ لَا يُجَاوِزَ بَصَرُهُ مُصَلَّاهُ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ هُوَ ابْنُ عَلَيَّةَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو اپنی نظروں کو آسمان کی طرف اٹھا لیتے۔ پھر ایک آیت نازل ہوئی، اگر وہ ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] نہیں تھی تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون سی آیت تھی۔ ابن سیرین رحمہ اللہ یہ پسند کرتے تھے کہ نمازی کی نظر اپنی جائے نماز سے تجاوز نہ کرے۔
محفوظ یہی ہے کہ یہ مرسل ہے، اور اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) سے یہ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
محفوظ یہی ہے کہ یہ مرسل ہے، اور اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) سے یہ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَنَزَلَتْ {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] " فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ " وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ مُرْسَلًا، وَهَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھا لیتے، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] ”جو لوگ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا۔
اسے حماد بن زید نے ایوب سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہی محفوظ ہے۔
اسے حماد بن زید نے ایوب سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہی محفوظ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ ابْنُ سُلَيْمٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ الْجَرْمِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَشَرَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِيَامِهِ وَرُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ بِنَحْوٍ مِنْ صَلَاةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سُلَيْمَانُ: فَرَمَقْتُ عُمَرَ فِي صَلَاتِهِ فَكَانَ بَصَرُهُ إِلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقلابہ جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کی نماز بیان کی، اس میں انہوں نے آپ ﷺ کے قیام، رکوع اور سجود کو بیان کیا۔
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی نماز آپ ﷺ کی نماز کے مشابہ تھی۔ سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عمر کی نماز کا اندازہ لگایا، وہ اپنی نظر سجدے والی جگہ پر لگائے رکھتے تھے۔
یہ روایت قوی نہیں ہے۔
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی نماز آپ ﷺ کی نماز کے مشابہ تھی۔ سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عمر کی نماز کا اندازہ لگایا، وہ اپنی نظر سجدے والی جگہ پر لگائے رکھتے تھے۔
یہ روایت قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ الْعَطَّارَ الْبَغْدَادِيَّ، ثنا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ عَنْبُوَانَةَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي صَادِقٍ عَنْ عَنْطُوَانَةَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَضَعُ بَصَرِي فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " عِنْدَ مَوْضِعِ سُجُودِكَ يَا أَنَسُ " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا شَدِيدٌ لَا أَسْتَطِيعُ هَذَا قَالَ: " فَفِي الْمَكْتُوبَةِ إِذًا " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: بَلَغَنِي أَنَّهُ يَحْتَاجُ أَنْ يَكُونَ عَنْطُوَانَةَ، وَلَكِنْ كَذَا فِي كِتَابِي قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ عَنْ عَنْطُوَانَةَ وَالرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِيفٌ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز میں میں اپنی نظر کہاں رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اپنے سجدے کی جگہ پر نظر رکھا کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو مشکل ہے، میں اس طرح نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرض نماز میں اس طرح کرلیا کر۔“
ربیع بن بدر ضعیف ہے، اور جو روایات گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔
ربیع بن بدر ضعیف ہے، اور جو روایات گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَلِيلَةُ بْنُ بَدْرٍ، ثنا عَنْطُوَانَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ اجْعَلْ بَصَرَكَ حَيْثُ تَسْجُدُ " وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ أَنَّهُمَا كَانَ يَكْرَهَانِ تَغْمِيضَ الْعَيْنَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! نماز میں اپنی نظر سجدے والی جگہ پر رکھو۔“
(ب) ہمیں مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کے واسطے سے بیان کیا گیا کہ وہ دونوں نماز میں آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہتے تھے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔
(ب) ہمیں مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کے واسطے سے بیان کیا گیا کہ وہ دونوں نماز میں آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہتے تھے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔