کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز میں کنکریوں کو ہٹانے اور انہیں برابر کرنے کی کراہت، اور اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک بار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3546
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفُضَيْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَا " قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ: مَنْ أَبُو الْأَحْوَصِ؟ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَمَا رَأَيْتَ الشَّيْخَ الَّذِي يُصَلِّي فِي الرَّوْضَةِ، فَجَعَلَ الزُّهْرِيُّ يَنْعَتُهُ وَسَعْدٌ لَا يَعْرِفُهُ، لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ ⦗٤٠٤⦘ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَا " لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
(أ) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے، اس لیے وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکریاں نہ ہٹائے۔“
حدیث نمبر: 3547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ: " إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شَيْبَانَ وَمِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے معیقیب بن ابی فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا جو سجدے کی جگہ سے مٹی برابر کیا کرتا تھا: ”اگر ضروری ہو تو ایک بار کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْبَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمَسَحْ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً تَسْوِيَةَ الْحَصَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نماز پڑھتے ہوئے کنکریوں کو نہ ہٹا، اگر ضروری ہو تو صرف ایک بار کنکریوں کو برابر کر لیا کر۔“
حدیث نمبر: 3549
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: " مَسْحُ الْحَصَا وَاحِدَةٌ وَأَنْ لَا أَفْعَلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِائَةٍ نَاقَةٍ سُودِ الْحَدَقِ " وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْحِ الْحَصَا وَاحِدَةً، وَقِيلَ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَوَّى الْحَصَى بِنَعْلَيْهِ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کنکریوں کو ہٹانا ایک بار ہی جائز ہے اور اگر میں ایک بار بھی نہ کروں تو یہ مجھے سیاہ آنکھ کی پتلی والی سو اونٹنیوں سے زیادہ محبوب ہے۔
(ب) مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے کنکریوں کو ہٹانے کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف ایک بار ہٹانا جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے جوتوں کے ساتھ کنکریاں برابر کر دیا کرتے تھے۔
(ب) مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے کنکریوں کو ہٹانے کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف ایک بار ہٹانا جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے جوتوں کے ساتھ کنکریاں برابر کر دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا هَوَى يَسْجُدُ يَمْسَحُ الْحَصَا لِوَضْعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْقَدْرُ هُوَ الْمُرَخَّصُ فِيهِ وَإِنَّمَا الْكَرَاهِيَةُ فِي الْعَبَثِ بِهِ وَلَوْ سَوَّاهُ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي الصَّلَاةِ كَمَا فَعَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٤٠٥⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَعْبَثُ بِالْحَصَا، فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ هَذَا خَشَعَتْ جَوَارِحُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوجعفر قاری سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب وہ سجدے کے لیے جھکتے تو اپنے سجدے والی جگہ سے کنکریاں ہٹانے کے لیے معمولی سا عمل کرتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انہیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ»
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انہیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ»
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔