کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے کتے یا کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ لَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم جنگل میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہماری ایک کتیا اور گدھی چر رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور وہ دونوں آپ کے سامنے پھرتی تھیں، آپ نے نہ تو انہیں ہٹایا اور نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانَا ⦗٣٩٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ، وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكُلَيْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا بَالَى ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم جنگل میں تھے۔ آپ ﷺ نے جنگل میں نماز پڑھی اور آپ کے سامنے سترہ نہیں تھا۔ ہماری گدھی اور کتیا آپ ﷺ کے سامنے اچھل کود کر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کی پروا نہیں کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ وَادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، پھر بھی جہاں تک ممکن ہو گزرنے والے کو منع کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُجَالِدٌ، ثنا أَبُو الْوَدَّاكِ قَالَ: مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو وداک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک قریشی نوجوان آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا، وہ پھر گزرنے لگا تو انہوں نے اسے پھر روکا حتیٰ کہ تین بار روکا جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ممکن ہو اسے روکو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ قَالَ: ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ، وَادْرَءُوهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مسلمان کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی لیکن جہاں تک ممکن ہو آگے سے گزرنے والے کو روکو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي وَرَوَاهُ أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَرَفَعَهُ وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”نمازی کے سامنے سے گزرنے والی کوئی چیز بھی نماز نہیں توڑتی۔“
(ب) ابو عقیل نے اسے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہے۔
(ب) ابو عقیل نے اسے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقِيلَ لَهُ: أَيَقْطَعُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطِّيبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ} [فاطر: ١٠] " فَمَا يَقْطَعُ هَذَا وَلَكِنْ يُكْرَهُ " ⦗٣٩٦⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا کتا، گدھا اور عورت سامنے سے گزر کر نماز توڑ دیتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [سورة فاطر: 10] ”تمام ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل بھی جسے وہ بلند کرتا ہے“ یہ چیزیں نماز کو نہیں توڑتیں لیکن ان کا گزر جانا مکروہ ہے۔