السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الكلب وغيره بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے کتے یا کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ لَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم جنگل میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہماری ایک کتیا اور گدھی چر رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور وہ دونوں آپ کے سامنے پھرتی تھیں، آپ نے نہ تو انہیں ہٹایا اور نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ کی۔