السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الكلب وغيره بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے کتے یا کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقِيلَ لَهُ: أَيَقْطَعُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطِّيبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ} [فاطر: ١٠] " فَمَا يَقْطَعُ هَذَا وَلَكِنْ يُكْرَهُ " ⦗٣٩٦⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا کتا، گدھا اور عورت سامنے سے گزر کر نماز توڑ دیتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [سورة فاطر: 10] ”تمام ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل بھی جسے وہ بلند کرتا ہے“ یہ چیزیں نماز کو نہیں توڑتیں لیکن ان کا گزر جانا مکروہ ہے۔