السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الكلب وغيره بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے کتے یا کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3511
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُجَالِدٌ، ثنا أَبُو الْوَدَّاكِ قَالَ: مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابو وداک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک قریشی نوجوان آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا، وہ پھر گزرنے لگا تو انہوں نے اسے پھر روکا حتیٰ کہ تین بار روکا جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ممکن ہو اسے روکو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“