کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تُؤْمَرُ إِذَا سَجَدَتْ أَنْ تَلْزِقَ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا كَيْلَا تَرْتَفِعَ عَجُزَتُهَا وَلَا تَجَافِيَ كَمَا يُجَافِي الرَّجُلُ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے تاکہ اس کی سرین بلند نہ ہو اور وہ (اپنے اعضاء کو) اس طرح الگ نہ رکھے جس طرح مرد الگ رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا سَجَدْتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثَانِ ضَعِيفَانِ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت جب سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملا لیا کرے۔
اس بارے میں دو ضعیف حدیثیں بھی مروی ہیں، جن جیسی روایات سے دلیل نہیں لی جاتی۔
اس بارے میں دو ضعیف حدیثیں بھی مروی ہیں، جن جیسی روایات سے دلیل نہیں لی جاتی۔
أَحَدُهُمَا حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ الْعَجْلَانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْأَوَّلُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الْآخِرُ " وَكَانَ " يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافَوْا فِي سُجُودِهِمْ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِي سُجُودِهِنَّ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِي التَّشَهُّدِ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ ⦗٣١٥⦘ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ وَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ أَبْصَارَكُنَّ فِي صَلَاتِكُنَّ تَنْظُرْنَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ وَاللَّفْظُ الْأَوَّلُ وَاللَّفْظُ الْآخِرُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَشْهُورَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَيْنَهُمَا مُنْكَرٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کی بہترین صفیں پہلی صفیں ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں۔“ آپ ﷺ مردوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ سجدے میں اپنے بازو پہلوؤں سے دور رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ سجدے سمٹ کر کریں اور مردوں کو حکم دیتے کہ وہ تشہد میں بائیں پاؤں کو بچھائیں اور داہنے کو کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ چار زانو ہو کر بیٹھیں اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم نماز میں اپنی نظروں کو مت اٹھایا کرو بلکہ پست رکھا کرو تاکہ تم مردوں کی شرمگاہوں کی طرف نہ دیکھ پاؤ۔“
اس حدیث کے پہلے اور آخری الفاظ نبی ﷺ سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان والے الفاظ منکر ہیں۔ واللہ اعلم۔
اس حدیث کے پہلے اور آخری الفاظ نبی ﷺ سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان والے الفاظ منکر ہیں۔ واللہ اعلم۔
وَالْآخَرُ: حَدِيثُ أَبِي مُطِيعٍ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَلْخِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الْأُخْرَى، وَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَقُولُ: يَا مَلَائِكَتِي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت جب نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا لے، یہ اس کے لیے زیادہ ستر کا باعث ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے تو فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! تم گواہ ہو جاؤ میں نے اسے بخش دیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرْخَسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو مُطِيعٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَبُو مُطِيعٍ بَيْنَ الضَّعْفِ فِي أَحَادِيثِهِ، وَعَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ وَرُوِي فِيهِ حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ وَهُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْمَوْصُولَيْنِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔ اس میں ابو مطیع راوی ضعیف ہے، اس کی احادیث میں ضعف واضح ہے اور اس کی اکثر روایات کا کوئی متابع نہیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو مطیع کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی طرح عطاء بن عجلان بھی ضعیف ہے۔ اس بارے میں ایک منقطع حدیث بھی مروی ہے اور وہ ان دونوں موصول روایات سے بہتر ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو مطیع کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی طرح عطاء بن عجلان بھی ضعیف ہے۔ اس بارے میں ایک منقطع حدیث بھی مروی ہے اور وہ ان دونوں موصول روایات سے بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ فَقَالَ: " إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کے کچھ حصے کو زمین کے ساتھ ملا لیا کرو کیونکہ اس میں عورت مرد کے مشابہ نہیں ہوتی ہے۔“