السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرْخَسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو مُطِيعٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَبُو مُطِيعٍ بَيْنَ الضَّعْفِ فِي أَحَادِيثِهِ، وَعَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ وَرُوِي فِيهِ حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ وَهُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْمَوْصُولَيْنِ قَبْلَهُ.حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔ اس میں ابو مطیع راوی ضعیف ہے، اس کی احادیث میں ضعف واضح ہے اور اس کی اکثر روایات کا کوئی متابع نہیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو مطیع کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی طرح عطاء بن عجلان بھی ضعیف ہے۔ اس بارے میں ایک منقطع حدیث بھی مروی ہے اور وہ ان دونوں موصول روایات سے بہتر ہے۔