السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3199
وَالْآخَرُ: حَدِيثُ أَبِي مُطِيعٍ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَلْخِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الْأُخْرَى، وَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَقُولُ: يَا مَلَائِكَتِي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت جب نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا لے، یہ اس کے لیے زیادہ ستر کا باعث ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے تو فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! تم گواہ ہو جاؤ میں نے اسے بخش دیا ہے۔“