السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3197
قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تُؤْمَرُ إِذَا سَجَدَتْ أَنْ تَلْزِقَ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا كَيْلَا تَرْتَفِعَ عَجُزَتُهَا وَلَا تَجَافِيَ كَمَا يُجَافِي الرَّجُلُ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے تاکہ اس کی سرین بلند نہ ہو اور وہ (اپنے اعضاء کو) اس طرح الگ نہ رکھے جس طرح مرد الگ رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا سَجَدْتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثَانِ ضَعِيفَانِ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت جب سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملا لیا کرے۔