أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ صَقْرِ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُوسَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ فِي سُوَيْقَةِ غَالِبٍ مِنْ كِتَابِهِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ وَقَتْلِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لِي أَنَسٌ: لَقَدْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، يَعْنِي عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء اور ان کی اندوہناک شہادت کے بارے میں منقول ہے کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب بھی صبح کی نماز ادا کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھا کر ان (قبائل کفار) پر بددعا کرتے یعنی ان لوگوں پر جنہوں نے قراء صحابہ رضی اللہ عنہم کو شہید کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَيْخٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ زَعَمُوا أَنَّهُ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ بَيَّاعِ الْأَنْمَاطِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ " رَفَعَهُ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ هَكَذَا وَوَقَفَهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ وَالْحَدِيثُ فِي الدُّعَاءِ جُمْلَةً إِلَّا أَنَّ عَدَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فِي الْقُنُوتِ مَعَ مَا رُوِّينَاهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ شرم و حیا والا اور سخی ہے۔ جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے انہیں خالی لوٹاتے ہوئے حیا آتی ہے۔“
اس حدیث کو جعفر بن میمون نے اسی طرح مرفوع بیان کیا ہے اور سلیمان تیمی نے دو روایتوں میں سے ایک کو ابوعثمان سے موقوف بیان کیا ہے۔ یہ حدیث صرف دعا کے بارے میں ہے۔ صحابہ کی کثیر تعداد نے قنوت میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے پاس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے۔
اس حدیث کو جعفر بن میمون نے اسی طرح مرفوع بیان کیا ہے اور سلیمان تیمی نے دو روایتوں میں سے ایک کو ابوعثمان سے موقوف بیان کیا ہے۔ یہ حدیث صرف دعا کے بارے میں ہے۔ صحابہ کی کثیر تعداد نے قنوت میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے پاس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي عَلِيٍّ بَيَّاعِ الْأَنْمَاطِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ قَالَ: " رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمُدُّ يَدَيْهِ فِي الْقُنُوتِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ قنوت میں ہاتھ بلند کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ قَالَ: " كُنَّا نَجِيءُ وَعُمَرُ يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ يَقْنُتُ بِنَا بَعْدَ الرُّكُوعِ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ كَفَّاهُ وَيُخْرِجَ ضَبْعَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھنے آیا کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کروا رہے ہوتے، پھر رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے، وہ اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کرتے کہ ان کی ہتھیلیاں نظر آنے لگتیں اور وہ اپنے بازوؤں کو پھیلا کر رکھتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَرَأَ ثَمَانِينَ آيَةً مِنَ الْبَقَرَةِ، وَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالدُّعَاءِ حَتَّى سُمِعَ مِنْ وَرَاءِ الْحَائِطِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے ﴿سورة البقرة﴾ کی اسی آیات تلاوت کیں اور رکوع کے بعد قنوت کی اور اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ اونچی آواز سے دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ دیوار کے اس طرف آدمی سن لیتا تھا۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَهَرَ بِالدُّعَاءِ " قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ وَهَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَّا مَسْحُ الْيَدَيْنِ بِالْوَجْهِ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ فَلَسْتُ أَحْفَظُهُ، عَنْ أَحَدٍ مِنَ ⦗٣٠١⦘ السَّلَفِ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ وَإِنْ كَانَ يُرْوى عَنْ بَعْضِهِمْ فِي الدُّعَاءِ خَارِجَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَهُوَ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ بَعْضِهِمْ خَارِجَ الصَّلَاةِ، وَأَمَّا فِي الصَّلَاةِ فَهُوَ عَمَلٌ لَمْ يَثْبُتَ بِخَبَرٍ صَحِيحٍ وَلَا أَثَرٍ ثَابِتٍ وَلَا قِيَاسٍ، فَالْأُولَى أَنْ لَا يَفْعَلَهُ وَيَقْتَصِرَ عَلَى مَا فَعَلَهُ السَّلَفُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، مِنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ دُونَ مَسْحِهِمَا بِالْوَجْهِ فِي الصَّلَاةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
ابورافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے دعا کی۔
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے مگر وہ سند ضعیف ہے، اور قنوتِ وتر کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دعا سے فارغ ہوتے وقت جو چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا مسئلہ ہے، یہ دعائے قنوت میں میں نے سلف میں سے کسی سے بھی یاد نہیں کیا، اگرچہ یہ بعض حضرات سے نماز کے علاوہ دعا میں روایت بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نبی ﷺ سے بھی ایک ضعیف حدیث منقول ہے اور یہ بعض لوگوں کا نماز سے باہر کا عمل بھی ہے۔ رہا نماز کے اندر منہ پر ہاتھ پھیرنا تو یہ عمل نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ کسی اثر سے، اور قیاس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ صرف اسی پر اکتفا کر لیا جائے جو سلف نے کیا ہے، یعنی صرف دعا میں ہاتھ اٹھائے جائیں۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے مگر وہ سند ضعیف ہے، اور قنوتِ وتر کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دعا سے فارغ ہوتے وقت جو چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا مسئلہ ہے، یہ دعائے قنوت میں میں نے سلف میں سے کسی سے بھی یاد نہیں کیا، اگرچہ یہ بعض حضرات سے نماز کے علاوہ دعا میں روایت بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نبی ﷺ سے بھی ایک ضعیف حدیث منقول ہے اور یہ بعض لوگوں کا نماز سے باہر کا عمل بھی ہے۔ رہا نماز کے اندر منہ پر ہاتھ پھیرنا تو یہ عمل نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ کسی اثر سے، اور قیاس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ صرف اسی پر اکتفا کر لیا جائے جو سلف نے کیا ہے، یعنی صرف دعا میں ہاتھ اٹھائے جائیں۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ " قَالَ: أَبُو دَاوُدَ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے ہاتھ سیدھے پھیلا کر دعا کرو اور ہاتھوں کی پشت اوپر کر کے دعا نہ کرو۔ جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لو۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب قرظی سے مختلف واسطوں سے منقول ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ یہ سند بہتر ہے لیکن اس میں بھی ضعف ہے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب قرظی سے مختلف واسطوں سے منقول ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ یہ سند بہتر ہے لیکن اس میں بھی ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجَرَّاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الَّذِي إِذَا دَعَا مَسَحَ وَجْهَهُ قَالَ: " لَمْ أَجِدْ لَهُ ثَبْتًا " قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ أَرَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ " يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي الْوِتْرِ وَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
علی باشانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو دعا کرتے وقت اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس اس کا ثبوت نہیں ہے۔ علی کہتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اس طرح فرمایا ہو۔ آپ رحمہ اللہ تو خود وتروں میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور اپنے ہاتھ بھی اٹھاتے تھے۔