السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: رفع اليدين في القنوت باب: قنوت میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَهَرَ بِالدُّعَاءِ " قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ وَهَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَّا مَسْحُ الْيَدَيْنِ بِالْوَجْهِ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ فَلَسْتُ أَحْفَظُهُ، عَنْ أَحَدٍ مِنَ ⦗٣٠١⦘ السَّلَفِ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ وَإِنْ كَانَ يُرْوى عَنْ بَعْضِهِمْ فِي الدُّعَاءِ خَارِجَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَهُوَ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ بَعْضِهِمْ خَارِجَ الصَّلَاةِ، وَأَمَّا فِي الصَّلَاةِ فَهُوَ عَمَلٌ لَمْ يَثْبُتَ بِخَبَرٍ صَحِيحٍ وَلَا أَثَرٍ ثَابِتٍ وَلَا قِيَاسٍ، فَالْأُولَى أَنْ لَا يَفْعَلَهُ وَيَقْتَصِرَ عَلَى مَا فَعَلَهُ السَّلَفُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، مِنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ دُونَ مَسْحِهِمَا بِالْوَجْهِ فِي الصَّلَاةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.ابورافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے دعا کی۔
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے مگر وہ سند ضعیف ہے، اور قنوتِ وتر کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دعا سے فارغ ہوتے وقت جو چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا مسئلہ ہے، یہ دعائے قنوت میں میں نے سلف میں سے کسی سے بھی یاد نہیں کیا، اگرچہ یہ بعض حضرات سے نماز کے علاوہ دعا میں روایت بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نبی ﷺ سے بھی ایک ضعیف حدیث منقول ہے اور یہ بعض لوگوں کا نماز سے باہر کا عمل بھی ہے۔ رہا نماز کے اندر منہ پر ہاتھ پھیرنا تو یہ عمل نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ کسی اثر سے، اور قیاس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ صرف اسی پر اکتفا کر لیا جائے جو سلف نے کیا ہے، یعنی صرف دعا میں ہاتھ اٹھائے جائیں۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔