حدیث نمبر: 3148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ قَالَ: " كُنَّا نَجِيءُ وَعُمَرُ يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ يَقْنُتُ بِنَا بَعْدَ الرُّكُوعِ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ كَفَّاهُ وَيُخْرِجَ ضَبْعَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھنے آیا کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کروا رہے ہوتے، پھر رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے، وہ اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کرتے کہ ان کی ہتھیلیاں نظر آنے لگتیں اور وہ اپنے بازوؤں کو پھیلا کر رکھتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3148
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه البخاري في رفع اليدين 94»