کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: دعائے قنوت کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلَادِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي ⦗٢٩٧⦘ غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنْ حَسَنٍ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْقُنُوتِ " اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " كَذَا كَانَ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ، عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَكَأَنَّ الشَّكَّ لَمْ يَقَعْ فِي الْحَسَنِ وَإِنَّمَا وَقَعَ فِي الْإِطْلَاقِ أَوِ النِّسْبَةِ، وَكَانَ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ هَذِهِ الزِّيَادَةُ: وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے، میں انہیں قنوت میں پڑھتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر و برائی کا تو نے فیصلہ کر دیا ہے، اس سے مجھے محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر کرتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور جس کا تو دشمن بن جائے وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا۔ ہمارے آقا تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3138
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1425»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو الْحَوْرَاءِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا عَلِقْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَلَّمَنِي دَعَوَاتٍ أَقُولُهُنَّ " اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، أُرَاهُ قَالَ: إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ الدُّعَاءُ الَّذِي كَانَ أَبِي يَدْعُو بِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي قُنُوتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: بُرَيْدٌ يَقُولُ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحوراء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے مجھے دعائیں سکھائی ہیں، میں وہ پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت سے بہرہ ور فرما کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ان میں مجھے بھی شامل فرما اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے مجھے محفوظ فرما اور بچا لے۔ بیشک تو ہی فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔“
میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”جس کو تو والی بنا دے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“ راوی فرماتے ہیں: میں نے اس کا ذکر محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ تو وہی دعا ہے جو میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں قنوت میں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3139
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ قد تقدم في الذي قبله»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ بِخَطِّ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ أَنَّ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ بِالْخَيْفِ يَقُولَانِ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَفِي وِتْرِ اللَّيْلِ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: " اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
برید بن ابی مریم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن علی بن حنفیہ رحمہ اللہ سے سنا کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں اور رات کے وتروں میں یہ کلمات پڑھتے تھے: «اللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت بخش کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے اور تو نے مجھے جو کچھ بھی عطا کیا ہے، اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کر دیا ہے اس سے مجھے محفوظ و مامون فرما۔ یقیناً فیصلہ تو ہی کرتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل ہو نہیں سکتا، اے ہمارے رب! تو ہی برکتوں والا اور بلند و بالا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3140
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الفاكهي 1/ 18/1۔2»
وَرُوِّينَا عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ⦗٢٩٨⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا دُعَاءً نَدْعُو بِهِ فِي الْقُنُوتِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " اللهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " رَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ رِوَايَةَ بُرَيْدٍ مُرْسَلَةً فِي تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ هَذَا الدُّعَاءَ فِي وِتْرِهِ، ثُمَّ قَالَ بُرَيْدٌ: سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولَانِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِي قُنُوتِ اللَّيْلِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُرْمُزَ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الْحَنَفِيَّةِ: " فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ " فَصَحَّ بِهَذَا كُلِّهِ أَنَّ تَعْلِيمَهُ هَذَا الدُّعَاءَ وَقَعَ لِقُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَقُنُوتِ الْوِتْرِ وَأَنَّ بُرَيْدًا أَخَذَ الْحَدِيثَ مِنَ الْوَجْهَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں دعا سکھایا کرتے تھے۔ ہم اسے فجر کی نماز میں پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! ہمیں ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور ہمیں عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں ہمیں بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمارے لیے برکت ڈال اور جس برائی اور شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے ہمیں محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکتوں والا اور بلند و بالا ہے۔“
(ب) مخلد بن یزید کی مرسل روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے نواسوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو قنوتِ وتر کی دعا سکھائی ہے۔
برید نے کہا کہ میں نے ابن حنفیہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اس دعا کو رات کی قنوت میں پڑھتے تھے:
(ج) اسی طرح اس روایت کو ابوصفوان اموی نے ابن جریج سے روایت کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن حنفیہ کی حدیث میں ہے کہ «فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ» ”صبح کی نماز کی قنوت میں“ پڑھتے تھے۔
(د) یہ درست ہے کہ آپ ﷺ نے جو دعا سکھائی ہے، یہ صبح کی نماز کی قنوت اور قنوتِ وتر دونوں کے بارے میں ہے اور برید نے یہ حدیث دو سندوں سے ذکر کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3141
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْقَاهِرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى مُضَرَ إِذْ جَاءَهُ جَبْرَئِيلُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ فَسَكَتَ، فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْكَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بَعَثَكَ رَحْمَةً، وَلَمْ يَبْعَثْكَ عَذَابًا {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨] ثُمَّ عَلَّمَهُ هَذَا الْقُنُوتَ: اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ " هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحًا مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کفارِ مُضر پر بددعا کر رہے تھے۔ اچانک جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو اشارہ کر کے فرمایا: ”خاموش ہو جائیے!“ تو رسول اللہ ﷺ چپ ہو گئے۔ پھر انھوں نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالیاں دینے والا اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ اس نے تو آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے نہ کہ عذاب بنا کر۔ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“ پھر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو یہ قنوت سکھلائی: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے لیے ہی خشوع و خضوع کرتے ہیں اور جو تیرا منکر ہے اس سے ہر قسم کا ناطہ توڑتے ہیں اور اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور تیرے لیے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی بھاگتے ہیں اور تیرے ہر حکم کے لیے تیار ہیں۔ تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بلاشبہ تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ صحیح متصل سند کے ساتھ مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3142
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود في المراسيل»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِينَ، وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، اللهُمَّ الْعَنْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكِ، اللهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لَا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ، وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ ⦗٢٩٩⦘ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَلَكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ " رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ فَخَالَفَ هَذَا فِي بَعْضِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبید بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ» ”اے اللہ! ہم سب مومن و مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے، ان کے دلوں میں الفت ڈال دے اور ان کی اصلاح کر دے اور ان کی دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! اہل کتاب کے ان کافروں پر لعنت کر جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔ اے اللہ! ان میں آپس میں اختلاف ڈال دے اور ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جو تو مجرم قوم سے نہیں پھیرتا۔“ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور جو تیری نافرمانی کرتا ہے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑتے ہیں۔“ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی دوڑتے اور کوشش کرتے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں، بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4968»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ: " اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعَ مَنْ يَكْفُرُكَ " كَذَا قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا فَمَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ قُنُوتَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو رَافِعٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ وَهْبٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَفِي حُسْنِ سِيَاقِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ لِلْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى حِفْظِهِ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ: " إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ " يَعْنِي بِخَفْضِ الْحَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہیں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے یہ پڑھتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَكْفُرُكَ» ”اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔ اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور بھلائی کے ساتھ تیری ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے آگے جھکتے ہیں اور جو تیرا انکار کرے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں۔“ انہوں نے اسی طرح رکوع سے پہلے کہا۔
اگرچہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے رکوع کے بعد قنوت پڑھنا روایت کیا ہے ان کی تعداد زیادہ ہے۔ اسے ابورافع، عبید بن عمیر، ابوعثمان نہدی اور زید بن وہب نے روایت کیا ہے، اور ایک سے زیادہ راوی ایک راوی کی نسبت حفظ کے زیادہ لائق ہیں اور عبید بن عمیر کے سیاق کلام کی خوبصورتی ان کے حفظ پر اور جس نے ان سے حفظ کیا پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی تو یہ دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ» ”اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔“
اور ابوعمرو بن علا کے واسطے سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ وہ دعائے قنوت میں پڑھتے تھے: «إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ» ”بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے“، یعنی حاء کے زیر کے ساتھ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3144
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»