کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود (رحمت کی دعا) بھیجا جا سکتا ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کا بیان کہ ”اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، یقیناً آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ " فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیعتِ رضوان والوں میں سے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب لوگ صدقات کا مال لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! ان پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ میرے والد محترم آپ ﷺ کی خدمت میں اپنی زکوۃ کا مال لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت بھیج۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے لیے اور میری آل کے لیے برکت کی دعا کریں، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”«صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلٰى زَوْجِكِ»“ ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ مِنْ أَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ الصَّلَاةَ الَّتِي هِيَ تَحِيَّةٌ لَذِكْرِهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ، فَأَمَّا صَلَاتُهُ عَلَى غَيْرِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ وَالتَّبْرِيكِ وَتِلْكَ جَائِزَةٌ عَلَى غَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سوا کسی کا کسی دوسرے پر درود بھیجنا جائز نہیں ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی ﷺ کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی ﷺ کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔