السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: هل يصلى على غير النبي صلى الله عليه وسلم وقول الله عز وجل وصل عليهم إن صلاتك سكن لهم باب: کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود (رحمت کی دعا) بھیجا جا سکتا ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کا بیان کہ ”اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، یقیناً آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے“
حدیث نمبر: 2876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ مِنْ أَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ الصَّلَاةَ الَّتِي هِيَ تَحِيَّةٌ لَذِكْرِهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ، فَأَمَّا صَلَاتُهُ عَلَى غَيْرِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ وَالتَّبْرِيكِ وَتِلْكَ جَائِزَةٌ عَلَى غَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سوا کسی کا کسی دوسرے پر درود بھیجنا جائز نہیں ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی ﷺ کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔