السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: هل يصلى على غير النبي صلى الله عليه وسلم وقول الله عز وجل وصل عليهم إن صلاتك سكن لهم باب: کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود (رحمت کی دعا) بھیجا جا سکتا ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کا بیان کہ ”اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، یقیناً آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے“
حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے لیے اور میری آل کے لیے برکت کی دعا کریں، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”«صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلٰى زَوْجِكِ»“ ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل کرے۔“