کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آل سے مراد عام طور پر آپ کے دین کے پیروکار ہیں
حدیث نمبر: 2869
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ ⦗٢١٧⦘ لِلثَّوْرِيِّ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: " قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: " أَهْلُ الْبَيْتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: مَنْ أَطَاعَهُ وَعَمِلَ بِسُنَنِهِ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَحْسِبُهُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَنْ أَطَاعَهُ قَالَ الشَّيْخُ: مَنْ ذَهَبَ هَذَا الْمَذْهَبَ الثَّانِي أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ {احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ} [هود: ٤٠] وَقَالَ {إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعَدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} [هود: ٤٦] فَأَخْرَجَهُ بِالشِّرْكِ عَنْ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ نُوحٍ وَقَدْ أَجَابَ عَنْهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَقَالَ: الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ} [هود: ٤٦] يَعْنِي الَّذِينَ أَمَرْنَا بِحَمْلِهِمْ مَعَكَ؛ لِأَنَّهُ قَالَ {وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ} [المؤمنون: ٢٧] فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَنْ يَحْمِلَ مِنْ أَهْلِهِ مَنْ لَمْ يَسْبِقْ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْ أَهْلِ مَعْصِيَةٍ، ثُمَّ بَيَّنَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: آلِ محمد کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل بیت مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جس نے بھی آپ ﷺ کی اطاعت کی اور آپ کی سنت پر عمل کیا۔
ابوبکر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا ہے: «مَنْ أَطَاعَهُ» ”جس نے آپ کی اطاعت کی“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا مذہب زیادہ درست ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام سے کہا: ﴿احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ﴾ [سورة هود: 40] ”اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی“ اور فرمایا: ﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ * قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ [سورة هود: 45-46] ”اے اللہ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا: اے نوح! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔“ اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے اہل سے نکال دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ [سورة هود: 46] کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ﴾ [سورة هود: 40]
”اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کر لو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا۔“ اس آیت سے بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2869
درجۂ حدیث محدثین: صحيح، مصنف عبدالرزاق مين نهين ملي
تخریج حدیث «صحيح، مصنف عبدالرزاق مين نهين ملي۔»
حدیث نمبر: 2870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنُ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ رَجُلٌ مِنَّا قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ قَالَ: جِئْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ، فَاجْلِسْ، قَالَ: فَجَاءَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَا، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ وَزَوْجَهَا، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا مُنْتَبِذٌ فَقَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ " قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ قَالَ: " وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي " قَالَ وَاثِلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّهَا لِمَنْ أَرْجَى مَا أَرْجُو ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہ ملے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے ہیں، آپ ﷺ نے انھیں بلایا تھا۔ آپ یہاں تشریف رکھیے، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے اور اندر چلے گئے، میں بھی ان کے ہمراہ اندر چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند کو اپنے قریب بٹھایا۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی۔ میں ایک طرف تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں، اے اللہ! اہل والے زیادہ حق دار ہیں۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی آپ کے اہل میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں تم بھی میرے اہل میں شامل ہو۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے میری امیدوں سے بھی بڑھ کر بات فرمائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2870
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن حبان 6976»
حدیث نمبر: 2871
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَهُوَ إِلَى تَخْصِيصِ وَاثِلَةَ بِذَلِكَ أَقْرَبُ مِنْ تَعْمِيمِ الْأُمَّةِ بِهِ، وَكَأَنَّهُ جَعَلَ وَاثِلَةَ فِي حُكْمِ الْأَهْلِ تَشْبِيهًا بِمَنْ يَسْتَحِقُّ هَذَا الِاسْمَ لَا تَحْقِيقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔
(ب) مذکورہ حدیث میں واثلہ رضی اللہ عنہ کا آل میں سے ہونا ان کی خصوصیت ہے۔ تمام امت کے لیے اس کا ثبوت امرِ بعید ہے اور واثلہ رضی اللہ عنہ کو آل کہنا بھی مشابہت کی بنا پر ہے نہ کہ حقیقتاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2871
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 2872
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی آل (سے مراد) آپ کی امت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2872
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 2873
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ قَالَ: " كُلُّ تَقِيٍّ " وَهَذَا لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمِثْلِهِ، نَافِعٌ السُّلَمِيُّ أَبُو هُرْمُزَ مِنْ بُصْرَى، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہرمز نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا: ”آلِ محمد کون ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر متقی آلِ محمد میں سے ہے۔“
اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2873
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ نافع السلمي كذاب»