کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بیٹھنے کے بعد کس طرح کھڑا ہوا جائے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا لِيُصَلِّيَ بِنَا فَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُصَلِّيَ بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَيْفَ كَانَتْ، يَعْنِي صَلَاتَهُ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا، يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ، ثُمَّ اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ مسجد میں ہمیں نماز پڑھانے تشریف لاتے تو کہتے کہ میں ضرور تمہیں نماز پڑھاؤں گا۔ میرا ارادہ اگرچہ نماز پڑھانے کا نہیں ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو دکھاؤں گا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ (عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ) کی نماز جیسی تھی، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بھی پوری تکبیریں کہتے تھے اور جب دوسرا سجدہ کر کے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے، پھر زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2759
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 824»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْهِسِنْجَانِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ يُوسُفَ، وَعِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَدَخَلَ عَلَيْنَا ⦗١٧٩⦘ مَسْجِدَنَا فَقَالَ: " إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ أَنَّهُ حَيْثُ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، يَعْنِي فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میں نماز پڑھانے کا ارادہ تو نہیں رکھتا لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کو نماز سکھاؤں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ جب آپ ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیدھے بیٹھ گئے، پھر زمین پر ٹیک لیتے ہوئے کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2760
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 677، 802، 823»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ مَالِكٌ " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِيرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى سْتَوَى قَاعِدًا قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے یہی منقول ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ مالک رضی اللہ عنہ پہلی رکعت میں جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے اور زمین پر سہارا لیتے ہوئے کھڑے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2761
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي واحمد»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَرْجِعُ مِنْ سَجْدَتَيْنِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنِّي أَشْتَكِي ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ نماز میں دو سجدوں کے بعد اپنے پاؤں پر ہی کھڑے ہو جاتے تھے، جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے (جلسہ استراحت کا) ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ کوئی نماز کی سنت نہیں ہے، میں تو کبھی کبھی اس لیے کرتا ہوں کہ میں تھک جاتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2762
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطاء 201»