السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيف القيام من الجلوس باب: بیٹھنے کے بعد کس طرح کھڑا ہوا جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2762
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَرْجِعُ مِنْ سَجْدَتَيْنِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنِّي أَشْتَكِي ".حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ نماز میں دو سجدوں کے بعد اپنے پاؤں پر ہی کھڑے ہو جاتے تھے، جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے (جلسہ استراحت کا) ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ کوئی نماز کی سنت نہیں ہے، میں تو کبھی کبھی اس لیے کرتا ہوں کہ میں تھک جاتا ہوں۔