السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيف القيام من الجلوس باب: بیٹھنے کے بعد کس طرح کھڑا ہوا جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْهِسِنْجَانِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ يُوسُفَ، وَعِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَدَخَلَ عَلَيْنَا ⦗١٧٩⦘ مَسْجِدَنَا فَقَالَ: " إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ أَنَّهُ حَيْثُ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، يَعْنِي فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میں نماز پڑھانے کا ارادہ تو نہیں رکھتا لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کو نماز سکھاؤں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ جب آپ ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیدھے بیٹھ گئے، پھر زمین پر ٹیک لیتے ہوئے کھڑے ہوئے۔