السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيف القيام من الجلوس باب: بیٹھنے کے بعد کس طرح کھڑا ہوا جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2759
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا لِيُصَلِّيَ بِنَا فَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُصَلِّيَ بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَيْفَ كَانَتْ، يَعْنِي صَلَاتَهُ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا، يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ، ثُمَّ اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ مسجد میں ہمیں نماز پڑھانے تشریف لاتے تو کہتے کہ میں ضرور تمہیں نماز پڑھاؤں گا۔ میرا ارادہ اگرچہ نماز پڑھانے کا نہیں ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو دکھاؤں گا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ (عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ) کی نماز جیسی تھی، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بھی پوری تکبیریں کہتے تھے اور جب دوسرا سجدہ کر کے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے، پھر زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے۔