کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مقتدی امام کے رکوع کرنے پر رکوع کرے اور اس کے سر اٹھانے پر سر اٹھائے اور اس سے پہل نہ کرے، اور اسی طرح سجدے وغیرہ میں بھی کرے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي " ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، رکوع و سجود، قیام و سلام میں مجھ سے پہل نہ کیا کرو؛ کیونکہ میں تمہیں اپنے سامنے اور پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہو جائے“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2592
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 426»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ " لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لِمَنْ فِي الْمَسْجِدِ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ أَتَمُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سکھایا کرتے تھے کہ ”رکوع میں امام سے جلدی نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہا کرو اور جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہا کرو اور جب تمہاری آواز فرشتوں کے کلام کے برابر ہوجائے گی تو مسجد میں موجود تمام لوگوں کی مغفرت ہوجائے گی۔ جب امام رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2593
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2596»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ عَطَاءُ بْنُ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأنا أَسْمَعُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي سَنَةِ مِائَتَيْنِ أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا جَمِيعًا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، وَلَا تَرْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ أَتَمُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم سب اکٹھے کہو «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور جب وہ (سجدے سے) سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور اس کے سر اٹھانے سے پہلے اپنے سر مت اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2594
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْطَاكِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: ثنا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا " يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَتَّبِعُهُ " وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ نَسْجُدُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو ہم رکوع کرتے اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور ہم اس وقت تک کھڑے ہی رہتے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ آپ ﷺ نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے، پھر ہم سجدے کے لیے جھکتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2595
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 690»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَخِرَّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق سے روایت ہے کہ مجھے عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے براء رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور وہ سچے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو کوئی بھی اپنی کمر نہ جھکاتا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ اپنی پیشانی زمین پر رکھ لیتے، پھر آپ ﷺ کے مقتدی سجدے میں جاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2596
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ فَإِنِّي قَدْ بَدُنْتُ فَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَرْكَعُ تُدْرِكُونِي حِينَ أَرْفَعُ وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَسْجُدُ تُدْرِكُونِي حِينَ أَرْفَعُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن محیریز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکوع اور سجدوں میں مجھ پر سبقت نہ لے جاؤ، کیونکہ میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں (کمزور ہو چکا ہوں)۔ بعض اوقات میں رکوع کے وقت تم پر سبقت لے جاتا ہوں تو تم مجھے اٹھتے وقت پا لیتے ہو اور بعض اوقات میں سجدہ کرتے وقت تم پر سبقت لے جاتا ہوں تو تم مجھے اٹھتے وقت پا لیتے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2597
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة 1549»
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَدُنْتُ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَكِنْ أَسْبِقُكُمْ، إِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ مَا فَاتَكُمْ " لَمْ يُضْبَطْ عَنْ شُيُوخِنَا بَدُنْتُ أَوْ بَدَّنْتُ وَاخْتَارَ أَبُو عُبَيْدٍ بَدَّنْتُ بِالتَّشْدِيدِ وَنَصْبِ الدَّالِ، يَعْنِي كَبِرْتُ، مَنْ قَالَ: بَدُنْتُ بِرَفْعِ الدَّالِ فَإِنَّهُ أَرَادَ كَثْرَةَ اللَّحْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، لہٰذا تم رکوع اور سجدوں میں (جاتے وقت) مجھ سے پہل نہ کیا کرو، مجھے تم سے آگے ہی رہنا چاہیے تاکہ تم اسے ادا کر لو جو تم سے رہ گیا ہے۔“
(ب) ہم نے اپنے شیوخ سے اس کا صحیح اعراب یاد نہیں کیا کہ «بَدَنْتُ» ہے یا «بَدَّنْتُ»، مگر ابوعبید نے «بَدَّنْتُ» کو پسندیدہ قرار دیا ہے یعنی دال منصوب مشدد کے ساتھ، مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں «بَدَنْتُ»، اور جو «بَدُنْتُ» پڑھتے ہیں تو اس کا معنیٰ ہے: ”میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2598
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابن حبان 2231»