السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: يركع بركوع الإمام ويرفع برفعه ولا يسبقه وكذلك في السجود وغيره باب: مقتدی امام کے رکوع کرنے پر رکوع کرے اور اس کے سر اٹھانے پر سر اٹھائے اور اس سے پہل نہ کرے، اور اسی طرح سجدے وغیرہ میں بھی کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي " ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، رکوع و سجود، قیام و سلام میں مجھ سے پہل نہ کیا کرو؛ کیونکہ میں تمہیں اپنے سامنے اور پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہو جائے“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے“۔