السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: يركع بركوع الإمام ويرفع برفعه ولا يسبقه وكذلك في السجود وغيره باب: مقتدی امام کے رکوع کرنے پر رکوع کرے اور اس کے سر اٹھانے پر سر اٹھائے اور اس سے پہل نہ کرے، اور اسی طرح سجدے وغیرہ میں بھی کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2598
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَدُنْتُ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَكِنْ أَسْبِقُكُمْ، إِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ مَا فَاتَكُمْ " لَمْ يُضْبَطْ عَنْ شُيُوخِنَا بَدُنْتُ أَوْ بَدَّنْتُ وَاخْتَارَ أَبُو عُبَيْدٍ بَدَّنْتُ بِالتَّشْدِيدِ وَنَصْبِ الدَّالِ، يَعْنِي كَبِرْتُ، مَنْ قَالَ: بَدُنْتُ بِرَفْعِ الدَّالِ فَإِنَّهُ أَرَادَ كَثْرَةَ اللَّحْمِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، لہٰذا تم رکوع اور سجدوں میں (جاتے وقت) مجھ سے پہل نہ کیا کرو، مجھے تم سے آگے ہی رہنا چاہیے تاکہ تم اسے ادا کر لو جو تم سے رہ گیا ہے۔“
(ب) ہم نے اپنے شیوخ سے اس کا صحیح اعراب یاد نہیں کیا کہ «بَدَنْتُ» ہے یا «بَدَّنْتُ»، مگر ابوعبید نے «بَدَّنْتُ» کو پسندیدہ قرار دیا ہے یعنی دال منصوب مشدد کے ساتھ، مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں «بَدَنْتُ»، اور جو «بَدُنْتُ» پڑھتے ہیں تو اس کا معنیٰ ہے: ”میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے۔“