کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلْ إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَمَّامٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ " لَا تَعُدْ " يُشْبِهُ قَوْلَهُ: " لَا تَأْتُوا لِلصَّلَاةِ تَسْعَوْنَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَرْكَعَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى مَوْقِفِكَ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ التَّعَبِ، كَمَا لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَسْعَى إِذَا سَمِعْتَ الْإِقَامَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور نبی ﷺ رکوع میں جا چکے تھے۔ انہوں نے بھی صف میں ملنے سے پہلے رکوع کرلیا۔ نبی ﷺ نے (نماز کے بعد) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری (نماز میں) حرص کو بڑھائے۔ دوبارہ اس طرح نہ کرنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کا فرمان «لَا تَعُدْ» آپ کے اس قول کی طرح ہے «لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ تَسْعَوْنَ» ”تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ۔“ یعنی تجھے رکوع کرنا ضروری نہیں جب تک تو صف میں اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ اس میں مشقت ہے۔ جیسا کہ جب تو اقامت سن لے تو تجھے دوڑنا لازمی نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2584
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ امام بخاريa ني موسيٰ بن اسماعيل عن همام روايت كي هي۔ اخرجه مالك في الموطا 285»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " دَخَلَا الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَا، ثُمَّ دَبَّا وَهُمَا رَاكِعَانِ حَتَّى لَحِقَا بِالصَّفِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما دونوں مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، ان دونوں نے فوراً رکوع کیا، پھر رکوع کی حالت میں ہی چلتے ہوئے صف کے ساتھ جا کر مل گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2585
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ رَأَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " دَخَلَ الْمَسْجِدَ ⦗١٣٠⦘ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَمَشَى حَتَّى أَمْكَنَهُ أَنْ يَصِلَ الصَّفَّ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَ فَرَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابو امامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، وہ فوراً تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے، پھر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2586
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا393»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ فَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعَ وَرَكَعَتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ حِينَ رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ وَأَنَا أَرَى أَنِّي لَمْ أُدْرِكْ فَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بِيَدِي وَأَجْلَسَنِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ " وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے مسجد کی طرف آیا۔ جب ہم مسجد میں پہنچے تو امام رکوع میں تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر ہم حالتِ رکوع میں ہی چلے حتیٰ کہ لوگوں کے سر اٹھانے سے پہلے ہم صف تک جا پہنچے۔ جب امام نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا؛ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے رکعت نہیں پائی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بٹھا دیا۔ پھر فرمایا: تم نے رکعت پا لی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2587
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2622»