السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ركع دون الصف وفي ذلك دليل على إدراك الركعة ولولا ذلك لما تكلفوه باب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلْ إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَمَّامٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ " لَا تَعُدْ " يُشْبِهُ قَوْلَهُ: " لَا تَأْتُوا لِلصَّلَاةِ تَسْعَوْنَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَرْكَعَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى مَوْقِفِكَ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ التَّعَبِ، كَمَا لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَسْعَى إِذَا سَمِعْتَ الْإِقَامَةَ ".حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور نبی ﷺ رکوع میں جا چکے تھے۔ انہوں نے بھی صف میں ملنے سے پہلے رکوع کرلیا۔ نبی ﷺ نے (نماز کے بعد) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری (نماز میں) حرص کو بڑھائے۔ دوبارہ اس طرح نہ کرنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کا فرمان «لَا تَعُدْ» آپ کے اس قول کی طرح ہے «لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ تَسْعَوْنَ» ”تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ۔“ یعنی تجھے رکوع کرنا ضروری نہیں جب تک تو صف میں اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ اس میں مشقت ہے۔ جیسا کہ جب تو اقامت سن لے تو تجھے دوڑنا لازمی نہیں۔