السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ركع دون الصف وفي ذلك دليل على إدراك الركعة ولولا ذلك لما تكلفوه باب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ فَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعَ وَرَكَعَتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ حِينَ رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ وَأَنَا أَرَى أَنِّي لَمْ أُدْرِكْ فَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بِيَدِي وَأَجْلَسَنِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ " وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے مسجد کی طرف آیا۔ جب ہم مسجد میں پہنچے تو امام رکوع میں تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر ہم حالتِ رکوع میں ہی چلے حتیٰ کہ لوگوں کے سر اٹھانے سے پہلے ہم صف تک جا پہنچے۔ جب امام نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا؛ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے رکعت نہیں پائی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بٹھا دیا۔ پھر فرمایا: تم نے رکعت پا لی ہے۔