السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ركع دون الصف وفي ذلك دليل على إدراك الركعة ولولا ذلك لما تكلفوه باب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ رَأَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " دَخَلَ الْمَسْجِدَ ⦗١٣٠⦘ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَمَشَى حَتَّى أَمْكَنَهُ أَنْ يَصِلَ الصَّفَّ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَ فَرَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابو امامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، وہ فوراً تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے، پھر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے۔