کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اذان کی ابتدا کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَتَّخِذُ نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَفَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ يَا بِلَالُ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ " ⦗٥٧٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی بھی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا: ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا: بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہ تم کسی آدمی کو بھیجو جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کا اعلان کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1831
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 579»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ثنا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ فَيَعْرَفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا أَوْ يُنَوِّرُوا نَارًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مشورہ کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے اوقات کو جانیں اور پہچانیں۔ بعض نے ذکر کیا کہ ایک ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان جفت کہیں اور اقامت ایک مرتبہ کہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 578»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَنَادَى: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " ذَلِكَ لِلنَّصَارَى " فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا قَالَ: " ذَلِكَ لِلْيَهُودِ " قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ کے زمانہ میں نماز کا وقت ہوتا تو ایک شخص راستے میں دوڑتا ہوا اعلان کرتا: ”نماز، نماز!“ لوگوں پر یہ بات مشکل ہو گئی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر ہم ناقوس بنا لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو نصاریٰ کا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم ایک سینگ بنا لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہود کا ہے۔“ راوی کہتا ہے: پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان جفت کہیں اور اقامت ایک مرتبہ کہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن خزيمة 369»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ: أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ وَقَالَ: " هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ " قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ فَقَالَ: " هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى " فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ وَهُو مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابٍ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟ " فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ " قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں؟ آپ ﷺ سے کہا گیا: نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دیں گے۔ آپ ﷺ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ ﷺ کو شبور کا ذکر کیا گیا، زیاد کہتے ہیں: یہودیوں کا شبور۔ آپ ﷺ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا: ”یہ یہود کا کام ہے۔“ پھر آپ ﷺ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نصاریٰ کا کام ہے۔“ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ پھرے، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے، انہیں نیند میں اذان دکھائی گئی، وہ صبح کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انہوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ تجھے کیا سکھلاتے ہیں۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں: ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصار گمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ان کو مؤذن بنا دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1834
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 498»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيِّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ثنا عَمَّى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلَاةِ أَطَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: تَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيِّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا رَأَيْتُ فَقَالَ: " إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ " فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلِلَّهِ الْحَمْدُ "..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ کو میرے باپ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے جمع کرنے کے لیے بجایا جائے تو ایک شخص نے میرے پاس چکر لگایا اور میں سویا ہوا تھا، اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟“ اس نے کہا: ”تو اس کا کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: ”ہم نماز کی طرف بلائیں گے۔“ اس نے کہا: ”کیا میں آپ کو وہ چیز نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ بہتر ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ پھر تھوڑی دیر پیچھے ہٹا اور کہا: ”جب تو اقامت کہے تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ ﷺ کو خبر دی جو میں نے دیکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کہ اس کو سکھاؤ جو تم نے دیکھا تھا، وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے وہ تجھ سے زیادہ بلند آواز والا ہے“، میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا، میں انھیں سکھاتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو وہ اپنے گھر میں تھے، وہ نکلے اور اپنی چادر کو کھینچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ان کی طرح خواب دیکھا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1835
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 499»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا يَعْقُوبُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ التَّكْبِيرَ فِي صَدْرِ الْأَذَانِ مَرَّتَيْنِ وَكَذَلِكَ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں یعقوب نے اسی سند کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر انہوں نے اذان کے شروع میں تکبیر دو مرتبہ ذکر کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1836
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَكَذَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي قِصَّةَ الرُّؤْيَا فِي تَثْنِيَةِ الْأَذَانِ وَانْفِرَادِ الْإِقَامَةِ وَقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، وَقَالَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَمْ يُثَنِّيَا. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ الْإِمَامَ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى الْمُطَرِّزَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: لَيْسَ فِي أَخْبَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ فِي قِصَّةِ الْأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا يَعْنِي حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ لِأَنَّ مُحَمَّدًا ⦗٥٧٦⦘ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَفِي كِتَابِ الْعِلَلِ لِأَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اذان میں دو مرتبہ اور اقامت میں ایک مرتبہ خواب کا قصہ مراد لیتے تھے۔
(ب) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ»۔
(ج) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» تثنیہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1837
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»