کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نشے کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا اس پر سے فرض کے ساقط ہونے کا عذر نہیں بن سکتا اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا، وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَكَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قَالُوا: مَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دی تو وہ ایسا ہے جیسے اس سے دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے چھین لیا گیا اور جس نے چار مرتبہ نشے کی حالت میں نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» پلائے۔“ پوچھا گیا: ”«طِينَةُ الْخَبَالِ» سے کیا مراد ہے، اے اللہ کے رسول؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلَانِسِيُّ بِالرَّمْلَةِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ " تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرٌ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی نیکی (آسمان پر) چڑھتی ہے: بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دے، اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشے والا یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“