حدیث نمبر: 1833
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَنَادَى: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " ذَلِكَ لِلنَّصَارَى " فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا قَالَ: " ذَلِكَ لِلْيَهُودِ " قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ کے زمانہ میں نماز کا وقت ہوتا تو ایک شخص راستے میں دوڑتا ہوا اعلان کرتا: ”نماز، نماز!“ لوگوں پر یہ بات مشکل ہو گئی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر ہم ناقوس بنا لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو نصاریٰ کا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم ایک سینگ بنا لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہود کا ہے۔“ راوی کہتا ہے: پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان جفت کہیں اور اقامت ایک مرتبہ کہیں۔