حدیث نمبر: 1834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ: أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ وَقَالَ: " هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ " قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ فَقَالَ: " هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى " فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ وَهُو مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابٍ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟ " فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ " قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا.
حافظ ثناء اللہ

ابو عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں؟ آپ ﷺ سے کہا گیا: نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دیں گے۔ آپ ﷺ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ ﷺ کو شبور کا ذکر کیا گیا، زیاد کہتے ہیں: یہودیوں کا شبور۔ آپ ﷺ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا: ”یہ یہود کا کام ہے۔“ پھر آپ ﷺ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نصاریٰ کا کام ہے۔“ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ پھرے، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے، انہیں نیند میں اذان دکھائی گئی، وہ صبح کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انہوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ تجھے کیا سکھلاتے ہیں۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں: ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصار گمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ان کو مؤذن بنا دیتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1834
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 498»