کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مغرب کے وقت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: " ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمَ " وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الْأُخْرَى: " ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی...“ اس میں ہے ”پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ داروں نے افطار کر لیا“ اور دوسری مرتبہ فرمایا: ”پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ داروں نے افطار کر لیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1718
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزَيَّانِ قَالَا: أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: " قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتْ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ ⦗٥٤٢⦘ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحُ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے جس وقت سورج ڈھل چکا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں۔“ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد ﷺ! کھڑے ہوں، عصر کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غائب ہو گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی جس وقت سورج مکمل غائب ہو گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سرخی چلی گئی، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے نماز پڑھی، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے جس وقت فجر صبح کے لیے طلوع ہونے لگی اور کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر دوسرے روز آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب کو ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، پھر عشا کو آئے جس وقت پہلی رات کا اول حصہ چلا گیا اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، پھر صبح کو آئے جس وقت خوب روشنی ہو گئی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، صبح کی نماز پڑھیں“، پھر فرمایا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1719
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه النسائي 526»
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِيُّ ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلَاةَ فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مِثْلَ قَامَةِ شَخَصِ الرَّجُلِ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِي جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَالَ: وَقَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ قَالَ: " مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ " قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلَاةِ؟ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس نماز سکھانے کے لیے آئے۔ جب سورج ڈھل چکا تھا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آئے جس وقت سایہ آدمی کے قد کے برابر ہو گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، مغرب کی نماز پڑھائی، پھر باقی حدیث ذکر کی اس میں ہے کہ پھر دوسرے دن آپ ﷺ کے پاس ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غروب ہو گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے۔ مغرب کی نماز پڑھائی اور اس کے آخر میں فرمایا: ”ان دونوں (نمازوں) وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے“، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کو نماز پڑھائی، جس طرح آپ کو جبرائیل علیہ السلام نے پڑھائی تھی، پھر فرمایا: ”نماز کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ دو (نمازوں) وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1720
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْفَهَانِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ فِيمَا كَتَبَ إِلِيَّ، ثنا أَبِي ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ فَاءَ الْفَيْءَ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ بَدَا أَوَّلُ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ الْيَوْمَ الثَّانِي حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّى الصُّبْحَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَّنِي لَيُعَلِّمَكُمْ أَنَّ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نمازوں کے متعلق سوال کیا، آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سایہ لوٹ آیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا اور عشا کی نماز پڑھائی جس وقت سرخی غائب ہو گئی اور صبح کی نماز پڑھائی جس وقت پہلی فجر ظاہر ہوئی، پھر دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا اور عشا کی نماز ایک تہائی رات میں پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی کے بعد پڑھائی، پھر فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے میری امامت کرائی تاکہ وہ مجھے سکھائے کہ ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1721
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ⦗٥٤٣⦘ السَّلَامُ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " ثُمَّ ذَكَرَ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ لَمَّا جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے ہیں“، پھر نماز کے اوقات بیان کیے، پھر ذکر کیا کہ مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر جب اگلے دن آئے تو مغرب کی نماز اسی وقت میں پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1722
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه النسائي 502»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاهُ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ فِي وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ قَالَ: " فَجَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِيَ سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِيَ سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يُغَيِّرْهُ " مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے سوائے مغرب کے، دو وقتوں میں نماز پڑھائی۔ میرے پاس مغرب کے وقت آئے، مجھے اس وقت نماز پڑھائی کہ جب سورج غروب ہو گیا، پھر دوسرے روز میرے پاس مغرب کے وقت آئے تو مجھے نماز پڑھائی اور سورج غروب ہونے کو تھا اور اسے برقرار رکھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1723
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/307»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ثنا مَكِّيٌّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے جب سورج پردوں میں چھپ جاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1724
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 536»
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، أنا أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے زمانہ میں مغرب کی نماز پڑھتے تھے، ہم میں کوئی واپس لوٹ کر اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1725
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 534»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلَمَةَ فَلَوْ رَمَيْنَا لَرَأَيْنَا مَوَاقِعَ نَبْلِنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم بنی سلمہ آتے اور تیر پھینکتے تو ہم تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1726
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الطيالسي 954»
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ⦗٥٤٤⦘ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي السُّوقَ فَلَوْ رَمَيْنَا بِالنَّبْلِ لَرَأَيْنَا مَوَاقِعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم بازار آتے، اگر ہم تیر پھینکتے تو ہم اس کی جگہ دیکھ لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح. قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا آسَى إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَصْنَعُ هَكَذَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ - أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ - مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
مرثد بن عبداللہ یزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ غازی بن کر آئے اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر میں تھے۔ انہوں نے مغرب کو مؤخر کر دیا تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ان کی طرف بڑھے اور کہا: ”اے عقبہ! یہ کون سی نماز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کو مشغول کر دیا گیا تھا۔“ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے قطعاً افسوس نہیں ہے مگر یہ لوگ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو (اس طرح) کرتے دیکھا اور پھر اسی طرح کیا جائے گا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: «لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ - أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ - مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ» ”میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک مغرب کو مؤخر نہیں کریں گی حتی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں۔“ “
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1728
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 1418»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلْهَا صُفْرَةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءُ مَا لَمْ تَنَمْ، وَصَلِّ الصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ، وَاقْرَأْ فِيهِ سُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سہیل بن مالک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھاؤ جب سورج ڈھل جائے اور عصر کی اس حالت میں کہ سورج سفید صاف ہو، زردی کے داخل ہونے سے پہلے، اور مغرب کی جب سورج غروب ہو جائے، اور عشاء کی (اس وقت) جب تک تو سو نہ جائے، اور صبح کی نماز پڑھاؤ کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور اس میں مفصل سورتوں میں سے دو لمبی سورتیں پڑھاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1729
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الحاكم 2/395»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أنا إِسْحَاقُ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ قَالَ: فَنَظَرْنَا يَوْمًا إِلَى ذَلِكَ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ قَالُوا: إِلَى الشَّمْسِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ ثُمَّ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: ٧٨] فَهَذَا دُلُوكُ الشَّمْسِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھایا کرتے تھے، جبکہ ہم دیکھتے تھے کہ سورج غروب ہونے والا ہو، تو ہم نے ایک دن اس کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم سورج کو دیکھ رہے ہیں۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ اس نماز کے اوقات ہیں، پھر فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ﴾ [سورة الإسراء: 78]، «دُلُوكِ الشَّمْسِ» ”یہ سورج کا ڈھل جانا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1730
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح أخرجه الحاكم»