حدیث نمبر: 1730
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أنا إِسْحَاقُ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ قَالَ: فَنَظَرْنَا يَوْمًا إِلَى ذَلِكَ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ قَالُوا: إِلَى الشَّمْسِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ ثُمَّ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: ٧٨] فَهَذَا دُلُوكُ الشَّمْسِ ".حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھایا کرتے تھے، جبکہ ہم دیکھتے تھے کہ سورج غروب ہونے والا ہو، تو ہم نے ایک دن اس کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم سورج کو دیکھ رہے ہیں۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ اس نماز کے اوقات ہیں، پھر فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ﴾ [سورة الإسراء: 78]، «دُلُوكِ الشَّمْسِ» ”یہ سورج کا ڈھل جانا ہے۔“